کیا بھلا ہے کیا برا

کیا بھلا ہے کیا برا سب چھوڑ کر
چل پڑی ہوں پیار تیرا اوڑھ کر

جا رہا ہے دور دیوانہ کوئی
سر ترے دیوار و در سے پھوڑ کر

پیار تیرا دیکھتی ہے آج بھی
ایک پاگل چوڑیوں کو توڑ کر

بدگمانی نے جدا ان کو کیا
جن کو رکھا تھا یقیں نے جوڑ کر

پھر سفر آسان عنبر ہو گیا
دل کا رستہ تیری جانب موڑ کر

فرحانہ عنبر

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے