وحشتوں کا نصاب تھوڑی ہے

وحشتوں کا نصاب تھوڑی ہے
زندگی سچ ہے خواب تھوڑی ہے

مجھ کو مجھ سے ملا دیا اس نے
یہ اداسی عذاب تھوڑی ہے

تو کہ سورج ہے میری آنکھوں کو
دیکھ لینے کی تاب تھوڑی ہے

یہ تو احساس ہے محبت کا
یہ فقط اک گلاب تھوڑی ہے

تو عطا ہے مہان لمحوں کی
تو مرا انتخاب تھوڑی ہے

یہ خماری تو ہے محبت کی
میں نے چکھی شراب تھوڑی ہے

چار دن کی ہے چاندنی عنبر
مستقل یہ شباب تھوڑی ہے

فرحانہ عنبر 

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا