پہلے پہلے کب بدلا تھا

پہلے پہلے کب بدلا تھا
میرے ساتھ وہ اب بدلا تھا

جینا جب دشوار ہوا تو
جینے کا پھر ڈھب بدلا تھا

دنیا بدلی لیکن دیکھو
خود بدلی تو سب بدلا تھا

لوگ تو پہلے والے تھے پر
لوگوں نےمطلب بدلا تھا

دیکھ کے دو مخمور نگاہیں
منظر پچھلی شب بدلا تھا

اس نے دیکھا مجھ کو ہنس کر
دل کا موسم تب بدلا تھا

دل نے فوراً جانا عنبر
تو نے چہرہ جب بدلا تھا

فرحانہ عنبر

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی