خشک اشجار پرندوں سے محبت کیا ہے

خشک اشجار پرندوں سے محبت کیا ہے
کیا خبر تجھ کو ہواؤں کی بغاوت کیا ہے

آج محصور ہوئے گھر میں زمانے والے
آج سمجھے ہیں یہ کشمیر کی حالت کیا ہے

کاش تم پوچھ سکو سانس تھمی ہے جن کی
خوف اوڑھے ہوئے جینے میں اذیت کیا ہے

یاد آئی ہے زمیں تجھ کو فنا کی تلخی
اپنے اعمال پہ تھوڑی سی ندامت , کیا ہے؟

صرف اک بار کروں خود سے ملاقات کبھی
اور میرے دلِ ناکام کی حسرت کیا ہے

آنکھ تعبیر کی الجھن سے پریشاں ہے اگر
خواب زاروں میں پنپتی ہوئی حیرت کیا ہے

یہ جو کہتے تھے کہ آ جائے قیامت ارشاد
اب خبر ان کو ہوئی اصل قیامت کیا ہے

ارشاد نیازی

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل