بُجھ گئے سب دیئے روشنی رہ گئی

بُجھ گئے سب دیئے روشنی رہ گئی

موت مرنے لگی زندگی رہ گئی

انتہا کا ہمیں موت سے پیار تھا

زندگی بھی ہمیں دیکھتی رہ گئی

سب سمندر مرے دشت میں ڈھل گئے

تشنگی پاس تھی تشنگی رہ گئی

وہ مری آنکھ کا نور تھا اس لیے

جب گیا چھوڑ کر تیرگی رہ گئی

زندگی کا اچانک سبب مل گیا

دل میں ہی خواہشِ خودکشی رہ گئی

راستے میں سبھی چھوڑ کر چل دیئے

شاذ کے ساتھ آوارگی رہ گئی

شجاع شاذ

Related posts

ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

میں نے سوچا ہے تمہیں