خوبصورت جنتوں میں سانپ چھوڑے رات بھر

خوبصورت جنتوں میں سانپ چھوڑے رات بھر
مسکراتی ساعتوں کے لیکھ پھوڑے رات بھر
شمع کی لو ہے کہ ہے یہ آتشِ ہجراں کی آنچ
ہم پگھلتے جا رہے ہیں تھوڑے تھوڑے رات بھر
میں نے دل کی ریت پر اشکوں سے لکھی یہ غزل
اور دریاؤں کے رخ پلکوں سے موڑے رات بھر
ریشمی یادوں کے گچھے کھل رہے ہیں دم بہ دم
بھیگے بھیگے چاند سے موتی نچوڑے رات بھر
دیکھتا رہتا ہے وہ نیناں لئے اب دم بخود
توڑنے والے کے میں نے خواب جوڑے رات بھر

فرزانہ نیناں

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے