بے روح لڑکیوں کا ٹھکانہ بنا ہوا

بے روح لڑکیوں کا ٹھکانہ بنا ہوا
کمرہ ہے میرا آئینہ خانہ بنا ہوا
میں نے تو کوئی بات ،کسی سے نہیں کہی
سوچا ہے جو وہی ہے فسانہ بنا ہوا
ندیا میں کس نے رکھ دیئے جلتے ہوئے چراغ
موسم ہے چشمِ تر کا سہانا بنا ہوا
عورت کا ذہن مرد کی اس کائنات میں
اب تک ہے الجھنوں کا نشانہ بنا ہوا
ممکن ہے مار دے مجھے ، اس کی کوئی خبر
دشمن ہے جس کا ،میرا گھرانہ بنا ہوا
بارش کی آگ ہے مرے اندر لگی ہوئی
بادل ہے آنسوؤں کا بہانہ بنا ہوا
نیناں کئی برس سے ہوا کی ہوں ہم نفس
ہے یہ بدن اُسی کا خزانہ بنا ہوا

فرزانہ نیناں

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی