کھو گئی ان کے تصور میں کہیں

کھو گئی ان کے تصور میں کہیں

ہو گئے شعر مکمل کتنے

کتنی سنجیدہ ہیں نظریں ان کی

اور الفاظ ہیں چنچل کتنے

آج بھی رہ گئی دھرتی پیاسی

آج بھی چھائے تھے بادل کتنے

اب تو خود پہ بھی اعتبار نہیں

دھوکے کھائے ہیں مسلسل کتنے

تیری آواز میں جادو ایسا

سن کے ہو جاتے ہیں پاگل کتنے

ایک میرا دل ہی نہی ھے طلعت

جل گئے بانس کےجنگل کتنے

طلعت سروہا

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل