یہ کس کہانی کا کردار ہو گیا ہوں میں

یہ کس کہانی کا کردار ہو گیا ہوں میں
جسے نبھاتے اداکار ہو گیا ہوں میں

وفا کی راہ میں منزل نہیں نصیب مجھے
کہ انتظار میں بے کار ہو گیا ہوں میں

نگاہ بھر کے بھلا کون دیکھتا ہے مجھے
خود اپنے آپ سے بے زار ہو گیا ہوں میں

گلہ نہیں ہے چراغوں سے اب دھوئیں کا مجھے
اسی فضا ميں پراسرار ہو گیا ہوں میں

وہ بے وفائی کی تصویر بن گیا ہے حسیب
اور اس کے واسطے دیوار ہو گیا ہوں میں

حسیب بشر

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا