وقت کے اندھیروں میں آفتاب دیکھا ہے

وقت کے اندھیروں میں آفتاب دیکھا ہے

تمنے جاگنے والو کیسا خواب دیکھا ہے

خون بے گناہی بھی کھو چکا کشش اپنی

قاتلوں کے چہروں پر وہ شباب دیکھا ہے

بس وہی سمجھتا ہے انقلاب کا مطلب

جس نے اپنی آنکھوں سے انقلاب دیکھا ہے

جذب تھا سمندر بھی جس کے خشک سینے میں

ہم سے تشنہ کاموں نے وہ سراب دیکھا ہے

یوں نظر سے گزرے تھےقافلے مسرت کے

آج تک یہ عالم ہے جیسے خواب دیکھا ہے

طلعت سروہا

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی