خیرات ، بجز حسّنِ مودّت نہیں مانگی

خیرات ، بجز حسّنِ مودّت نہیں مانگی
اللہ کے مزدور ہیں ، اُجرت نہیں مانگی

اک بار سرِ دشت اُٹھا ہاتھ ہمارا
پھر ہم سے کسی شخص نے بیعت نہیں مانگی

بس اُس کی اطاعت میں رہے آخری دم تک
ہم نے کبھی اقرار کی مہلت نہیں مانگی

اللہ نے بخشا ہے ہمیں آیۂ تطہیر
دُنیا کے ذلیلوں سے عزّت نہیں مانگی

سچ کے لیے خوں دینا ہے دستور ہمارا
ہم نے کبھی دربار سے قیمت نہیں مانگی

یک طرفہ نبھائے گئے پیمانِ وفا کو
بھولے سے بھی بدلے میں محبت نہیں مانگی

اخترؔ ہے ہمیں اذنِ سخن ختمِ رُسلؐ سے
غیروں سے کبھی ہم نے اجازت نہیں مانگی

اختر عثمان​

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا