ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ غم کچھ نہیں کہتے

ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ غم کچھ نہیں کہتے
یوں ہے کہ ترے سامنے ہم کچھ نہیں کہتے

واپس چلے آتے ہیں یونہی دامنِ دل تک
کچھ اشک سرِ دیدۂ نم کچھ نہیں کہتے

میں شام سے تا صبح جو پھرتا ہوں بھنور سا
اِس باب میں اربابِ کرم کچھ نہیں کہتے

اپنے لیے اِک درجہ بنا رکھا ہے ہم نے
میعار ہے، میعار سے کم کچھ نہیں کہتے

ہونا بھی نہ ہونا ہے تو کس بات کا رونا
اختؔر مجھے موجود و عدم کچھ نہیں کہتے

اختر عثمان​

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا