کھیل دنیائے عارضی کا ہوں

کھیل دنیائے عارضی کا ہوں
ایک کِردار زندگی کا ہوں

مجھ کو رکھا گیا اندھیرے میں
مَیں بھی حقدار روشنی کا ہوں

اِنتہا کے قریب ہے دنیا
آدمی آخری صدی کا ہوں

دل کو احساس ہوگیا تیرا
معترف تیری دوستی کا ہوں

مَیں نے غربت میں عِلم سیکھا ہے
مَیں تو مقروض مفلسی کا ہوں

پُر نہ ہوگا جو میرے بعد کبھی
ایک ایسا خَلا کمی کا ہوں

میرا دشمن نہیں خیالی کوئی
دوست بھی مَیں کسی کسی کا ہوں

زبیر خیالی

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی