مجھے اَنا کے عِوض بے قیاس کھو دے گا

مجھے اَنا کے عِوض بے قیاس کھو دے گا
مَیں کہہ رہا ہوں تو اک غم شناس کھو دے گا

حیات جس نے بسر کی ہے بے خودی میں تمام
اگر وہ ہوش میں آیا حواس کھو دے گا

دیارِ غیر کے ہیں خواب تیری آنکھوں میں
مجھے یہ ڈر ہے تو اپنی اَساس کھو دے گا

یہ دل وبال سے بے باک ہوگیا اِتنا
کہ ایک روز یہ خوف و ہراس کھو دے گا

تری نگاہ خیالی جہاں میں بھٹکے گی
اگر تو شرم و حیا کا لباس کھو دے گا

زبیر خیالی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا