حیات ایسے گزاری جارہی ہے

حیات ایسے گزاری جارہی ہے
کہ یہ بیکار ساری جا رہی ہے

مکانِ دل ہے گَرد آلود کتنا
مگر صورت سنواری جارہی ہے

اِرادے خودکشی کرنے لگے ہیں
تمنا دل میں ماری جارہی ہے

بڑا پرسوز عالم ہے وہاں کا
جہاں تک آہ و زاری جا رہی ہے

الہی’ عدل کی میزانِ برحق
زمیں پر کب اتاری جا رہی ہے

زمانہ معترف جس کا کبھی تھا
وہ رسمِ دوست داری جا رہی ہے

اِسی رستے پہ منزل ہے خیالی
جدھر اپنی سواری جا رہی ہے

زبیر خیالی

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی