یہ لوگ کسی سے بھی رعایت نہیں کرتے

یہ لوگ کسی سے بھی رعایت نہیں کرتے
بے لوث خدا سے بھی محبت نہیں کرتے

کیوں ہم سے ہراساں ہو ، تٙسٙلُّط ہے تمھارا
کردار مصنف سے بغاوت نہیں کرتے

جو دیکھنا چاہیں ہمیں دنیا کی نظر سے
پھر ہم بھی عطا ان کو بصارت نہیں کرتے

نادان نکل آئے ہیں تاریکیءِ شب سے
اب چاند ستاروں کی عبادت نہیں کرتے

لے آئیں کوئی ڈھونڈ کے انسان کا ہمسر
ہم اہلِ جنوں ایسی حماقت نہیں کرتے

مَیں ہاں میں مِلاتا نہیں ہاں ان کی خیالی
احباب بھی اب میری وکالت نہیں کرتے

زبیر خیالی

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا