خواب زدہ ویرانوں تک

خواب زدہ ویرانوں تک
پہنچی نیند ٹھکانوں تک

آوازوں کے دریا میں
غرق ہوئے ہم شانوں تک

باغ، اثاثہ ہے اپنا
وہ بھی زرد زمانوں تک

بنچ پہ پھیلی خاموشی
پہنچی پیڑ کے کانوں تک

عشق عبادت کرتے لوگ
جاگیں روز اذانوں تک

کرنیں ملنے آتی ہیں
گھر کے روشن دانوں تک

زرد اداسی چھائی ہے
کھیتوں سے کھلیانوں تک

مبشّر سعید

Related posts

درد کی سرحد سے دل بھی

دل لگی یاد آئے گی

دیے تھے ہم تو ماند سے