زرد موسم کی اذیت بھی اٹھانے کا نہیں

زرد موسم کی اذیت بھی اٹھانے کا نہیں
میں درختوں کی جگہ خود کو لگانے کا نہیں

اب ترے ساتھ تعلق کی گذرگاہوں پر
وقت مشکل ہے، مگر ہاتھ چھڑانے کا نہیں

قریہء سبز سے آتی ہوئی پر کیف ہوا !
طاق پر رکھا مرا دیپ بجھانے کا نہیں

صبر کا غازہ مرے عشق کی زینت ٹھہرا
سو، میں آنکھوں سے کوئی اشک بہانے کا نہیں

چل رہا تھا تو سبھی لوگ مرے بازو تھے
گر پڑا ہوں تو کوئی ہاتھ بڑھانے کا نہیں

مجھ کو یہ میر تقی میر بتاتے ہیں سعید
عشق کرنا ہے مگر جان سے جانے کا نہیں

مبشّر سعید

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا