خندئہ دنداں نما کرتا جو وہ کافر گیا

خندئہ دنداں نما کرتا جو وہ کافر گیا
گوہر تر جوں سرشک آنکھوں سے سب کی گر گیا

کیا گذر کوے محبت میں ہنسی ہے کھیل ہے
پائوں رکھا جس نے ٹک اودھر پھر اس کا سر گیا

کیا کوئی زیرفلک اونچا کرے فرق غرور
ایک پتھر حادثے کا آلگا سر چر گیا

نیزہ بازان مژہ میں دل کی حالت کیا کہوں
ایک ناکسبی سپاہی دکھنیوں میں گھر گیا

بعد مدت اس طرف لایا تھا اس کو جذب عشق
بخت کی برگشتگی سے آتے آتے پھر گیا

تیز دست اتنا نہیں وہ ظلم میں اب فرق ہے
یعنی لوہا تھا کڑا تیغ ستم کا کر گیا

سخت ہم کو میر کے مرجانے کا افسوس ہے
تم نے دل پتھر کیا وہ جان سے آخر گیا

میر تقی میر

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان