اس بد زباں نے صرف سخن آہ کب کیا

اس بد زباں نے صرف سخن آہ کب کیا
چپکے ہی چپکے ان نے ہمیں جاں بلب کیا

طاقت سے میرے دل کی خبر تجھ کو کیا نہ تھی
ظالم نگاہ خشم ادھر کی غضب کیا

یکساں کیا نہیں ہے ہمیں خاک رہ سے آج
ایسا ہی کچھ سلوک کیا ان نے جب کیا

عمامہ لے کے شیخ کہیں میکدے سے جا
بس مغبچوں نے حد سے زیادہ ادب کیا

اس رخ سے دل اٹھایا تو زلفوں میں جا پھنسا
القصہ اپنے روز کو ہم نے بھی شب کیا

ظاہر ہوا نہ مجھ پہ کچھ اس ظلم کا سبب
کیا جانوں خون ان نے مرا کس سبب کیا

کچھ آگے آئے ہوتے جو منظور لطف تھا
ہم جی سے اپنے جاچکے تم قصد تب کیا

بچھڑے تمھارے اپنا عجب حال ہو گیا
جس کی نگاہ پڑ گئی ان نے عجب کیا

برسوں سے اپنے دل کی ہے دل میں کہ یار نے
اک دن جدا نہ غیر سے ہم کو طلب کیا

کی زندگی سو وہ کی موئے اب سو اس طرح
جو کام میر جی نے کیا سو کڈھب کیا

میر تقی میر

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے