خبر کچھ ایسی اڑائی کسی نے گاؤں میں

خبر کچھ ایسی اڑائی کسی نے گاؤں میں
اداس پھرتے ہیں ہم بیریوں کی چھاؤں میں

نظر نظر سے نکلتی ہیں درد کی ٹیسیں
قدم قدم پہ وہ کانٹے چبھے ہیں پاؤں میں

ہرایک سمت سے اڑ اڑ کے ریت آتی ہے
ابھی ہے زور وہی دشت کی ہواؤں میں

غموں کی بھیڑ میں امید کا وہ عالم ہے
کہ جیسے ایک سخی ہو کئی گداؤں میں

ابھی ہے گوش بر آواز گھر کا سناٹا
ابھی کشش ہے بڑی دور کی صداؤں میں

چلے تو ہیں کسی آہٹ کا آسرا لے کر
بھٹک نہ جائیں کہیں اجنبی فضاؤں میں

دھواں دھواں سی ہے کھیتوں کی چاندنی باقیؔ
کہ آگ شہر کی اب آ گئی ہے گاؤں میں

باقی صدیقی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا