آپ کی یا جہاں کی بات کریں

آپ کی یا جہاں کی بات کریں
کون سے مہرباں کی بات کریں

حسن خوش ہے نہ عشق آسودہ
کیا ترے آستاں کی بات کریں

ہو چکیں اس جہان کی باتیں
اب کوئی اس جہاں کی بات کریں

زندگی نام ہے بہاروں کا
گل نہیں گلستاں کی بات کریں

سب کو ساحل کا پاس ہے باقیؔ
کس سے موج رواں کی بات کریں

باقی صدیقی

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی