کھینچے جہاں تو تیغ جلادت کے واسطے

کھینچے جہاں تو تیغ جلادت کے واسطے
واں میں بھی ہوں مدام شہادت کے واسطے

سجدہ کوئی کرے تو در یار پر کرے
ہے جاے پاک شرط عبادت کے واسطے

آئے نہ تم تو درپس دیوار مجھ تلک
کھینچے ہیں لوگ رنج عیادت کے واسطے

خوش طالعی صبح جو اس منھ پہ ہے سفید
پھرتا ہے مہ بھی اس ہی سعادت کے واسطے

ہے میر پیر لیک سوے میکدہ مدام
جاتا ہے مغبچوں کی ارادت کے واسطے

میر تقی میر

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا