دیوانگی میں گاہ ہنسے گاہ رو چکے

دیوانگی میں گاہ ہنسے گاہ رو چکے
وحشت بہت تھی طاقت دل ہائے کھو چکے

افراط اشتیاق میں سمجھے نہ اپنا حال
دیکھے ہیں سوچ کرکے تو اب ہم بھی ہوچکے

کہتا ہے میر سانجھ ہی سے آج درد دل
ایسی کہانی گرچہ نندھی ہے تو سو چکے

میر تقی میر

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا