بے خودی جو یہ ہے تو ہم آپ میں اب آچکے

بے خودی جو یہ ہے تو ہم آپ میں اب آچکے
کیا تمھیں یاں سے چلے جاتے ہو ہم بھی جاچکے

تم یہی کہتے رہے یہ اور گل تازہ کھلا
زخم بھی ہم نے اٹھائے داغ بھی ہم کھا چکے

ایک بوسہ دے نہ منھ برسوں لگایا واہ واہ
اب تو ٹک بولو جزا ہم اس عمل کی پا چکے

یاں تلک آنے میں جتنا مکث کرتے ہو کرو
اب تو جانا جان سے ناچار ہم ٹھہرا چکے

اب چمن میں جا نکلتے ہیں تو جی لگتا نہیں
پھول گل سے میر اس بن دل بہت بہلا چکے

میر تقی میر

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی