خالی کوزے جھانک رہی ہو

خالی کوزے جھانک رہی ہو
تم اک پیاسی آنکھ رہی ہو

جھوٹی لڑکی کس کے بھروسے
لمبی لمبی ہانک رہی ہو

حبس اور وحشت کے صحرا میں
گرد اور عجلت پھانک رہی ہو

صبح کے پاکیزہ دامن پر
شب کی الجھن ٹانک رہی ہو

نفرت الفت ہجر کے ریوڑ
اک لاٹھی سے ہانک رہی ہو

میرے من میں جھانکنے والی
اپنے من میں جھانک رہی ہو ؟

تصویروں میں یادیں بھر کے
دیواروں پر ٹانک رہی ہو

ارشاد نیازی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا