دانۂ گندم بیدار اٹھانے لگا ہوں

دانۂ گندم بیدار اٹھانے لگا ہوں

خاک ہوں خاک کا آزار اٹھانے لگا ہوں

کرۂ ہجر سے ہونا ہے نمودار مجھے

میں ترے عشق کا انکار اٹھانے لگا ہوں

لو نے سردار کیے رکھا ہے شب بھر تم کو

اے چراغو میں یہ دستار اٹھانے لگا ہوں

یہ کھلی جنگ ہے اور جنگ بھی ہے اپنے خلاف

اس لیے اپنے طرف دار اٹھانے لگا ہوں

ایک آواز مری نیند اڑا دیتی ہے

ابن آدم ترے آثار اٹھانے لگا ہوں

احمد کامران 

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا