کیسی چلی ہے اب کے ہوا

کیسی چلی ہے اب کے ہوا تیرے شہر میں
بندے بھی ہو گئے ہیں خدا تیرے شہر میں

تو اور حریم ناز میں پابستۂ حنا
ہم پھر رہے ہیں آبلہ پا تیرے شہر میں

کیا جانے کیا ہوا کہ پریشان ہو گئی
اک لحظہ رک گئی تھی صبا تیرے شہر میں

کچھ دشمنی کا ڈھب ہے نہ اب دوستی کا طور
دونوں کا ایک رنگ ہوا تیرے شہر میں

شاید تجھے خبر ہو کہ خاطرؔ تھا اجنبی
لوگوں نے اس کو لوٹ لیا تیرے شہر میں

خاطر غزنوی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے