جب اس زلف کی بات چلی

جب اس زلف کی بات چلی
ڈھلتے ڈھلتے رات ڈھلی

ان آنکھوں نے لوٹ کے بھی
اپنے اوپر بات نہ لی

شمع کا انجام نہ پوچھ
پروانوں کے ساتھ جلی

اب کے بھی وہ دور رہے
اب کے بھی برسات چلی

خاطرؔ یہ ہے بازئ دل
اس میں جیت سے مات بھلی

خاطر غزنوی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا