کیسے کہوں وہ دل کا ہے

کیسے کہوں وہ دل کا ہے سردار منفرد
قسمت سے جو ملا ہے مجھے یار منفرد

جاکر اے نامہ بر یہ انہیں کہنا باادب
انداز اپ کا ہے یہ سرکار منفرد

یوں تو انا کو لاتی نہیں درمیاں مگر
کرتی ہوں چاہتوں کا میں پرچار منفرد

خاموش راستوں سے میں گزری ہوں بارہا
لیکن سکوت راہ ہے اس بار منفرد

کرتی ہوں روح سے میں تعلق کی بات جب
کھلتے ہیں مجھ پہ روح کے اسرار منفرد

لکھا ہے رب نے جس کو بھی میرے نصیب میں
میری کہانی کا ہے وہ کردار منفرد

احساس میں گھلے ہوں وفاؤں کے دائرے
ہوتے ہیں چاہتوں کے بھی حقدار منفرد

دنیا سے ہے الگ مرا انداز باخُدا
رکھتی ہوں شاز اپنا میں کردار منفرد

شاز ملک 

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے