جو ہو سکے تو اے نصیب

جو ہو سکے تو اے نصیب یوں اُجالنا مجھے
نہ بخت کے حسین تخت سے اُتارنا مجھے

اگر میں لڑکھڑا گئی کسی مقامِ عشق پر
مرے شریکِ زندگی تو ہی سنبھالنا مجھے

کتابِ حق میں یہ کہا ہے رب نے میرے باخدا
کٹھن ہو رہ گزر کوئی تو بس پکارنا مجھے

میں وہ نہیں کہ چپ رہوں گی زندگی کو چھوڑ کر
میں ساتھ لے کہ جاؤں گی سمجھ کے مارنا مجھے

کہیں ترستی ہی رہوں اے زندگی ترے لیے
اے زندگی نہ اس طرح کبھی گزارنا مجھے

سمجھ میں آئے دھڑکنوں کا ساز گر تجھے کبھی
بٹھا کے اپنے سامنے تو بس سنوارنا مجھے

وہ خوش مزاج مجھ سے کہہ رہا تھا آج بس یہی
کڑی اداسیوں سے شاز تم نکالنا مجھے

شاز ملک

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی