ہماری زندگی کا ایک ہی یہ مرثیہ ٹھہرا
ہمارے واسطے تیرا الگ ہی زاویہ ٹھہرا
سمجھ آئی نہیں گو عمر ساری سوچتے گزری
یہ دل کے ساتھ کیسا درد کا اک حاشیہ ٹھہرا
نہ جانے کیوں مجھے لگنے لگا ہے سوچ کر تجھ کو
تُو میری اک ادھوری سی غزل کا قافیہ ٹھہرا
بساطِ زیست پر بے ربط یوں خوشیاں منانا ہی
عطائے زندگی پرکیف یہ دورانیہ ٹھہرا
جسے قرطاس پر رکھا محبت سے عقیدت سے
ہماری جان کا دشمن وہی تو تجزیہ ٹھہرا
جسے دیکھا اُسے ہم نے تو دیکھا مسکراہٹ سے
ہمارے واسطے یہ شاز صدقہ جاریہ ٹھہرا
شاز ملک