سیط وقت میں قرنوں قیام کرتا ہوا

سیط وقت میں قرنوں قیام کرتا ہوا
ستارہ مجھ تلک آیا خرام کرتا ہوا

ہر ایک سمت سے وحشت حصار کرتی ہوئی
ہر ایک گام پہ رستہ کلام کرتا ہوا

سو دہرے رنج سے مجمع ہوا ہے پتھر کا
کہ مر گیا ہوں میں قصہ تمام کرتا ہوا

وہ آنکھ رات کے غرفے سے باز ہوتی ہوئی
میں اپنی تیغِ نظر کو نیام کرتا ہوا

پلٹ کے آیا ہوں اپنی نگہ میں آگ لیے
سو ڈر رہا ہوں تجلی کو عام کرتا ہوا

میں خرچ ہو گیا تخلیقِ شعر میں سرمد
کسی کے ہجر کی لذت مدام کرتا ہوا

عدنان سرمد

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی