رنگ خاکے میں جو بھرا میں نے
نام اس کو دیا خدا میں نے
یہ جو پیکر ترا چنا میں نے
پہلے کرتا نیا سیا میں نے
شش جہت میں جو ہے جھلک میری
توڑ ڈالا تھا آیئنہ میں نے
تیرا ہم نام مر گیا اک شخص
آج تجھ کو بھی رو لیا میں نے
جو کسی سے نہ کہہ سکا میں کبھی
ان درختوں سے کہہ دیا میں نے
نام اس نے مرا لیا تھا ابھی
اس سے بہتر نہیں سنا میں نے
اب ہے روشن چراغ میں سرمد
وہ جو سیکھی تھی اک دعا میں نے
عدنان سرمد