گل صنوبر کی غزل کا تجزیاتی مطالعہ

آپ کا پورا نام گل صنوبر ہے تخلص غزل ہے، اردو کی مقبول شاعرہ ہیں۔ آپ کی دو کتابیں "مجھے کوئی تو نام دو” اور "محبت ڈھونڈ لی میں” منظر عام پر آچک ہیں۔ ان کی یہ دونوں کتابیں نظم، غزل، اور نثری نظموں پر مشتمل ہیں۔ انہوں نے 2000 میں لکھنے کا آغاز کیا، لیکن ان کی پہلی کتاب 2009 میں اور دوسری کتاب 2010 میں شائع ہوئی۔ ان دونوں کتابوں پر دو مختلف یونیورسٹیوں کے طلباء نے ایم فل سطح پر ریسرچ کرکے مقالے لکھے ہیں۔ سرگودھا میں قیام کے دوران وہ ہیومن رائٹس این جی او کے ساتھ وابستہ رہیں اور اسٹوڈنٹ ونگ کی صدر کے طور پر کام کیا، جس پر انہیں 2009 میں فاطمہ جناح میڈل ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 2011 میں انہیں پاکستان کی کم عمر ترین شاعرہ کا ایوارڈ، نیشنل یوتھ ایوارڈ، اور 50 ہزار روپے نقد انعام بھی ملا۔ سرگودھا میں پیدا ہوئیں اور پندرہ سال سعودی عرب میں اور پانچ سال انگلینڈ میں گزارے۔ گزشتہ سات سال سے لاہور میں مقیم ہیں اور American Lyceum School میں سیکشن ہیڈ کے طور پر تین سال سے اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔ انہیں کتابیں پڑھنے اور لکھنے کا شوق ہے اور مختلف کتابوں پر تبصرے شخصیات پر آرٹیکل لکھتی ہیں۔ گزشتہ چار ماہ سے انہوں نے "GSG VLOGS” کے نام سے ایک چینل بھی بنایا ہے۔ آپ کی زیر تبصرہ یہ غزل کرب، احساسِ زیاں، اور زندگی کی بے ثباتی کے گہرے موضوعات پر مبنی بہترین معاشرتی کہانیوں پر مشتمل شاعری ہے۔ شاعرہ نے اس غزل میں اس فانی دنیا کی بے وفائی اور زندگی کے تلخ حقائق کو نہایت خوبصورتی سے موضوع سخن بنایا ہے۔ صنوبر زندگی کی ناپائیداری اور تعلقات کی نزاکت کو بیان کرتے ہوئے قاری کو اس بات پر غور و فکر کی دعوت دیتی ہیں کہ ہر چیز کا اصل قدر و قیمت اس وقت معلوم ہوتی ہے جب وہ ہم سے چھن جائے اس سے پہلے ہم اس نعمت کی قدر نہیں کرتے۔
آپ کی غزل میں شجر اور زندگی کی بے ثباتی بھی ہے مثلاً: "کبھی جو تم سے شجر چھنے گا تو پتہ چلے گا” ایک علامتی پیغام کا حامل ہے۔ یہاں شاعرہ نے "شجر” کو ایک سایہ دار شے کے طور پر استعمال کیا ہے جو زندگی میں سکون اور حفاظت کی علامت ہے۔ شاعرہ کہتی ہے کہ زندگی میں آرام و سکون کا احساس تب تک ہوتا ہے جب تک وہ ہمارے پاس ہوتا ہے؛ مگر جیسے ہی یہ سکون چھن جائے تو اس کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہ ایک نہایت عام انسانی تجربہ ہے کہ اکثر ہم اپنی زندگی کے معمولی لمحات کی قدر نہیں کرتے جب تک کہ وہ ہم سے جدا نہ ہو جائیں۔
صنوبر کی شاعری میں آگ، قربانی اور درد کا استعارہ بھی ہے جیسے: "ہمارے حصے کی آگ تو ہم نے جھیل لی ہے” یہاں "آگ” کو شاعرہ نے مصیبت اور تکلیف کے استعارہے کے طور پر پیش کیا ہے۔ شاعرہ اپنے درد اور قربانی کی واضح تصویر کشی کرتے ہوئے یہ پیغام دیتی ہیں کہ ہم نے اپنی طرف سے جو تکلیفیں سہ لی ہیں، مگر دوسروں کو ان کے اثرات کا سامنا تب ہوگا جب ان کی اپنی زندگیوں میں مسائل آئیں گے۔
صنوبر کی غزل میں حیا اور دستار کی علامتیں بھی ہیں مثلاً: "ہمارے سر سے حیا کی چادر تو چھین لی ہے” عزت، شرافت، اور ناموس کی علامتوں کو سامنے لاتا ہے۔ یہاں شاعرہ نے اس بات کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے کہ دوسروں کی عزت کو پامال کرنے والوں کو اس بات کا ادراک تب ہوتا ہے جب ان پر بھی ایسی ہی قیامت ٹوٹتی ہے۔ یہ ایک کڑی حقیقت ہے کہ انسان دوسروں کی عزت و آبرو کی پرواہ نہیں کرتا، مگر جب ان کی اپنی عزت پر بات آتی ہے تو ان کو یہ درد محسوس ہوتا ہے۔
آپ کی شاعری میں زخم اور مرہم کا بیان بھی ہے: اس شعر میں شاعرہ نے زخموں اور مرہم کے استعارے استعمال کیے ہیں جو انسان کے دکھ اور مداوا کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ شاعرہ چاہتی ہے کہ کوئی ایسی شخصیت آئے جو ان کے درد کو سمجھے اور اس پر مرہم رکھے۔ یہ انسانی فطرت کو واضح کرتا ہے کہ ہم سب کو اپنی تکالیف میں کسی نہ کسی کا سہارا چاہیے ہوتا ہے، جو ہمارے زخموں کو بھر سکے اور ہمیں سکون دے۔

صنوبر کی غزل میں آنکھوں کی اداسی اور تنہائی کا استعارہ بھی ہے مثلاً: "آنکھوں میں اداسیاں” کی تشبیہ دی گئی ہے جو انسان کے اندرونی غم اور مایوسی کو بیان کرتی ہے۔ شاعرہ یہ کہتی ہے کہ اگر کوئی ایک پل ان کی زندگی کا حصہ بنے تو ان کی اداسی اور تکلیف کو سمجھ سکے گا۔ اس شعر میں شاعرہ نے انسان کی تنہائی اور اس کے اندر پنہاں درد کو نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے۔
آپ کی غزل میں اذیتوں کا سفر اور بچھڑنے کی تکلیف کا بھی ذکر ہے جیسے: آخری شعر میں شاعرہ نے "اذیتوں کے سفر” کی بات کی ہے۔ یہاں شاعرہ کہتی ہے کہ کسی کو اذیتوں کا سفر تبھی سمجھ آتا ہے جب وہ خود بھی ایسی ہی تکلیف سے گزرے۔ شاعرہ یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ کبھی کبھی دوسروں کو ان کے درد کا اندازہ تبھی ہوتا ہے جب وہ خود بھی ایسی ہی اذیتیں سہتے ہیں۔
گل صنوبر کی یہ غزل ایک گہری حقیقت اور انسانی تجربات کو بیان کرتی ہے۔ شاعرہ نے نہایت حساسیت کے ساتھ انسان کے جذبات، درد، اور احساسِ زیاں کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس غزل میں موجود ہر شعر اپنی جگہ ایک مکمل خیال اور تجربے کا عکاس ہے جو قاری کو سوچنے اور غور و فکر کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ اہل ذوق قارئین کے مطالعے کے لیے گل صنوبر کی غزل پیش خدمت ہے۔

کبھی جو تم سے شجر چھنے تو پتہ چلے گا
تمہاری دنیا سے جب گئے تو تو پتہ چلے گا
ہمارے حصے کی آگ تو ہم نے جھیل لی ہے
تمہاری بستی کا گھر چلے گا تو پتہ چلے گا
ہمارے سر سے حیا کی چادر تو چھین لی ہے
اب ان کی دستار بھی گرے تو پتہ چلے گا
کوئی تو آئے ہمارے زخموں پہ رکھے مرہم
وگر نہ زخموں سے گل کھلے تو پتہ چلے گا
ہماری آنکھوں میں کیسی کیسی اداسیاں ہیں
کوئی یہاں ایک پل رہے تو پتہ چلتا گا
انہیں بھلا کر اذیتوں کا سفر تھا کیسا
غزل انہیں یہ سفر ملے تو پتہ چلے گا

 

ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

Related posts

خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

انجمن پنجاب

تنقید کیا ہے