کر لیا آپ نے گھر آنکھوں میں

کر لیا آپ نے گھر آنکھوں میں
اب کھٹکتی ہے نظر آنکھوں میں

خواب بن بن کے بکھرتا ہے جہاں
شام سے تابہ سحر آنکھوں میں

صبح کی فکر میں رہنے والے
رات کرتے ہیں بسر آنکھوں میں

کھل گیا راز گلستاں دل پر
چبھ رہے ہیں گل تر آنکھوں میں

روز اک طرفہ تماشا بن کر
وقت کرتا ہے سفر آنکھوں میں

بات چھیڑی تو ہے ان کی باقیؔ
آ گئے اشک اگر آنکھوں میں

باقی صدیقی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے