وقت چپ سا کھڑا ہے رستے میں

وقت چپ سا کھڑا ہے رستے میں
دشت کیسا پڑا ہے رستے میں

آپ کا غم ہو یا زمانے کا
کوس جو ہے کڑا ہے رستے میں

سنگ ریزوں کو دیکھنے والو
دل سا ہیرا پڑا ہے رستے میں

کوئی کانٹا ہے یا کوئی گل ہے
دل کا دامن اڑا ہے رستے میں

اس طرح چپ کھڑے ہیں ہم جیسے
ایک پتھر گڑا ہے رستے میں

دل اگر بجھ گیا تو پھر باقیؔ
ایک کانٹا بڑا ہے رستے میں

باقی صدیقی

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل