کرلیں جنھیں حکومت پوری کرنی ہے

کرلیں جنھیں حکومت پوری کرنی ہے
ہمیں تو عمر کی مہلت پوری کرنی ہے

ایک ہی عمر ہے اور اس میں ہے کام بھی ایک
ایک سزا کی مدت پوری کرنی ہے

آج بھی اپنا آپ مجھے بیچ آنا ہے
آج بھی ایک ضرورت پوری کرنی ہے

پہلے ایک جدال سے مجھے گزرنا ہے
بعد میں ایک محبت پوری کرنی ہے

غائب ہے معلول مگر بیچاروں کو
جیسے تیسے علّت پوری کرنی ہے

عمران ہاشمی

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی