سفر آسان تھوڑی ہوتے ہیں

سفر آسان تھوڑی ہوتے ہیں
رَہ نگہبان تھوڑی ہوتے ہیں

ہیں درندے تہِ لباسِ جدید
لوگ انسان تھوڑی ہوتے ہیں

ہم سے ہوتی ہے کچھ توقع بھی
ہم پہ قربان تھوڑی ہوتے ہیں

ہم غلام، آپ جب بھی آجائیں
آپ مہمان تھوڑی ہوتے ہیں

عمران ہاشمی

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا