اب جو آتا نہیں جواب کوئی

اب جو آتا نہیں جواب کوئی
ہوگیا راستہ خراب کوئی!!؟

رات کا بڑھ گیا اندھیرا اور
چُھپ گیا جب سے ماہتاب کوئی

ساتھ بیٹھا تھا اور وہ چُپ تھا

دیکھتا میرا اضطراب کوئی

جانے یہ بات کیسے کہتے ہیں
‘اچھا لگتا ہے بے حساب کوئی

وہ دکھائی تو دیں، رسائی نہ دیں
کھا کے رہ جائے پیچ و تاب کوئی

عمران ہاشمی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے