کہیں سکون نہیں ہے عذاب سے پہلے

کہیں سکون نہیں ہے عذاب سے پہلے
کہ خار شاخ پہ آئے گلاب سے پہلے

وہ مانگنے نہیں کچھ تجھکو دینے آ یا تھا
سوال سن بھی لیا کر جواب سے پہلے

بکھر بکھر کہ میں آ یا ہوں ایک پیکر میں
ورق ورق میں رہا ہوں کتاب سے پہلے

مری سُلگتی ہوئی ریت سے نہ نفرت کر
کبھی تھا میں بھی سمندر سراب سے پہلے

وہاں پہ سونے سے بہتر ہے جاگنا صائم
جہاں پہ نیند بکھرتی ہو خواب سے پہلے

افضل شریف صائم

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے