رخ سے پردہ ہٹا کے دیکھیں گے

رخ سے پردہ ہٹا کے دیکھیں گے
ہم ترے پاس آ کے دیکھیں گے

کیسے لگتی ہے آ گ پانی میں
تجھ پہ پانی گرا کے دیکھیں گے

جب کوئی مشغلہ نہیں ہو گا
تیرا چہرہ بنا کے دیکھیں گے

کیسا ہوتا ہے وصل کا موسم
گل پہ تتلی بنا کے دیکھیں گے

تو غزل کی طرح مرصع ہے
ہم تجھے گنگنا کے دیکھیں گے

جو بھی کچھ دسترس میں ہے صائم
آ ج تم پر لٹا کے دیکھیں گے

افضل شریف صائم

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل