انتظار ایسے کسی شخص کا کر جاؤں گا

انتظار ایسے کسی شخص کا کر جاؤں گا
اپنی آنکھیں ہی میں دہلیز پہ دَر جاؤں گا

یہ مرا جسم نہیں ایک جلدِ کاغذ ہے
ہاتھ مت مجھ کو لگاؤ میں بکھر جاؤں گا

پھول بن کر تیرے آنگن میں اگر کھل نہ سکا
دھول بنکر تیرے قدموں میں بکھر جاؤں گا

اجنبی ہونے سے پہلے مجھے معلوم نہ تھا
اپنی آواز سے میں آپ ہی ڈر جاؤں گا

مجھ کو رفعت نہ ستاروں کی اگر راس آئی
کسی پاتال میں چپ چاپ اُتر جاؤں گا

اتنی ارزاں تو نہیں ہے یہ وفا بھی صائم
اپنے وعدے سے کبھی میں بھی مُکر جاؤں گا

افضل شریف صائم

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے