نہیں کہ عکس ادھورا ہی چھوڑ دیں گے ہم
شکستہ آئینے کو پھر سے جوڑ دیں گے ہم
یہ ربط اور یہ رشتہ تری خوشی سے ہے
تو جب کہے گا ترا ہاتھ چھوڑ دیں گے ہم
تیرے گھروندوں کو لہریں نہ چُھو سکیں گی کبھی
یقین رکھ رُخِ طوفاں موڑ دیں گے ہم
کسی سے بھیک نہ اب لیں گے جھوٹے خوابوں کی
جو ضد کریں گی یہ آنکھیں تو پھوڑ دیں گے ہم
ہمارے بعد بھی ہم سے رہو گے تم منسوب
تمہارے نام سے یوں نام جوڑ دیں گے ہم
اگر ہمارے ستارے نہ مل سکے صائم
تو آسماں سے ستارے ہی توڑ دیں گے ہم
افضل شریف صائم