تری تصویر جلانے کی ضرورت کیا ہے
آ گ کو آ گ لگانے کی ضرورت کیا ہے
اب کہیں بھی ہمیں جانے کی ضرورت کیا ہے
پاس تم ہو تو زمانے کی ضرورت کیا ہے
شہر کا شہر ہی جب جیت نہ مانے تو وہاں
جیت کا حلف اٹھانے کی ضرورت کیا ہے
اپنی آ نکھوں پہ ہی جب قرض ہو کچھ خوابوں کا
کسی کو خواب دکھانے کی ضرورت کیا ہے
کام کچھ حسن مروت سے لیا کر اے دوست
پھول سے خط کو جلانے کی ضرورت کیا ہے
بے سبب ہوتے ہیں ناراض جو تم سے صائم
ایسے لوگوں کو منانے کی ضرورت کیا ہے
افضل شریف صائم