بازی وفا کی جیت کے ہارا نہیں کوئی

بازی وفا کی جیت کے ہارا نہیں کوئی
اس کاروبارِ دل میں خسارہ نہیں کوئی

ہم چاند جیسے لوگوں کے دُکھ بھی عجیب ہیں
ہم سب کے ہم سفر ہمارا نہیں کوئی

مجھ میں بھٹک رہے ہیں کئی قیس و کوہکن
وہ دشت ہوں کہ جس کا کنارا نہیں کوئی

تنہا ترے بغیر بظاہر رہا مگر
لمحہ ترے بغیر گُزارا نہیں کوئی

صائم! سماعتوں سے کسی کا گِلہ ہی کیا
مدّت سے ہم نے نام پکارا نہیں کوئی

افضل شریف صائم

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی