جب اکیلے میں تجھے یاد کیا کرتے ہیں

جب اکیلے میں تجھے یاد کیا کرتے ہیں
یوں سمجھ ماس کو ناخن سے جُدا کرتے ہیں

اپنی آنکھیں میں جہاں پھوڑ کے رکھ آیا تھا
لوگ اُس دشت سے اب خواب چُنا کرتے ہیں

جن چٹانوں پہ مرے جسم کے ٹکڑے بِکھرے
اب سُنا ہے کہ وہاں پھول کھِلا کرتے ہیں

قید کر آتے ہیں زندان انا میں روحیں
اب تو ہم صرف دِکھاوے کو مِلا کرتے ہیں

ہر کسی کو کہاں دیتے ہیں ہم اتنی عِزّت
کوئی پیارا ہو تو بس اُس سے گِلہ کرتے ہیں

یہ حقیقت ہے بڑی تلخ حقیقت صائم
کہ یہاں خواب سدا خواب رہا کرتے ہیں

افضل شریف صائم

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے