ہمیں ہی وہم تھا

ہمیں ہی وہم تھا جس کو یقیں سمجھتے تھے
سفر میں ہو کے بھی خود کو مکیں سمجھتے تھے

انا کا روگ ہی ایسا ہے تیرا دوش نہیں
کسی کو ہم بھی کبھی کچھ نہیں سمجھتے تھے

جہاں پہ ہوتے ہیں ہم اب وہیں پہ ہوتے ہیں
کبھی کہیں پہ تھے ہم اور کہیں سمجھتے تھے

سنا ہے اب انہیں پانی بھی مانتا نہیں کوٸی
ترے وہ اشک جنہیں ہم نگیں سمجھتے تھے

عجیب دن تھے وہ جب اس کے ساتھ چلتے ہوۓ
ہم آسماں کو بھی صاٸم زمیں سمجھتے تھے

افضل شریف صائم

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان