آج آیا ہے وہی شخص مٹانے مجھکو

آج آیا ہے وہی شخص مٹانے مجھکو
لگے تھے جسکو بنانے میں زمانے مجھکو

کون اب زلف نچوڑے گا مرے چہرے پر
کون آئے گا تری طرح جگانے مجھکو

شہر کا شہر حسد کرنے لگا ہے مجھ سے
کون آیا ہے یہ ہمراہ لے جانے مجھکو

مجھے تعبیر کی خواہش ہی نہیں ہے تم سے
بس دکھاتے رہو تم خواب سہانے مجھکو

پھر جلا پائے نہیں مجھکو محبت والے
یوں بجھایا تری نفرت کی ہوا نے مجھکو

مان جانے کو میں تیار تھا لیکن صائم
دکھ تو یہ ہے کہ وہ آیا نہ منانے مجھکو

افضل شریف صائم

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی