کیوں بھیجا مجھے تو نے

کیوں بھیجا مجھے تو نے پیغام محبت کا
معلوم نہیں تجھکو انجام محبت کا

کرنا ہے طواف اس کا مل جائے وہ گر مجھکو
باندھے ہوئے بیٹھا احرام محبت کا

ہوتی ہے مجھے وحشت اب ذکر محبت سے
مت سامنے میرےلو تم نام محبت کا

لازم ہے امام اس کا کوئی عشق کا مارا ہو
صائم یہ جنازہ ہے ناکام محبت کا

افضل شریف صائم

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی